پٹھان کوٹ :12/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اروناچل پردیش کے ایک پولیس تھانہ میں فوجیوں کی جانب سے مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کئے جانے کے بعد کشیدگی پیدا ہونے کے معاملہ میں آرمی چیف بپن راوت نے اہم تبصرہ کیا ہے۔ جنرل راوت نے کہا کہ وہ اروناچل پردیش کے بوم ڈیلا میں ہوئے واقعہ کی تفتیش کر رہے ہیں اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ واضح ہو کہ 2 نومبر کو بوم ڈیلا میں دو جوانوں کو پولیس نے تنازعہ کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد فوج اور پولیس آمنے سامنے ہوگئے تھے۔ اس معاملہ میں فوج کے کرنل اوردیگراہلکاروں پر تھانہ میں توڑ پھوڑاور پولیس افسران کو دھمکانے کا الزام لگا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ فوجیوں نے ویسٹ کیمانگ ضلع میں منعقد بودھ فیسٹیول کے دوران شہریوں اور پولیس کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔ اس کے بعد مقامی تھانہ کے ایس ایچ اوموقع پر پہنچے تھے اور دو فوجیوں کو پولیس تھانے لے آئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد کچھ فوجیوں نے بوم ڈیلا پولیس تھانہ پہنچ کر توڑ پھوڑ کی تھی اور پولیس والوں کو دھمکایا تھا۔ راوت نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اگر کوئی بھی فوجی مجرم پایا جاتا ہے تو ہم اس کے خلاف ایکشن لیں گے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ بدھ کو وزیر دفاع نرملا سیتارمن اور وزیر داخلہ کرن رجیجو فوج اور پولیس کے درمیان معاملہ حل کرانے کے لیے اروناچل پہنچے تھے۔